1Path2Peace Foundation – Telegram
1Path2Peace Foundation
5.01K subscribers
3.33K photos
2.65K videos
43 files
3.16K links
Registered NGO (Serve Ummah, Serve Humanity)

★ Amazing Statuses
#Hadith & #GIF
#Motivational Reminders
#Stories & #Sunnah of Prophet ﷺ
#Day2Day updates
#Ponder
#ShortVideos
#Parenting
@DeenTutor

Donate now:👉 donate.1Path2Peace.com
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
​اس ویڈیو میں شیخ ایک بہت اہم نکتے کی طرف توجہ دلا رہے ہیں کہ جب بھی آپ نماز کے بارے میں سستی محسوس کریں، تو جان لیں کہ آپ کے اندر منافقین کی ایک صفت پائی جاتی ہے، کیونکہ قرآن کے مطابق منافقین نماز کے لیے سستی سے کھڑے ہوتے ہیں۔ شیخ فرماتے ہیں کہ ہمیں نماز کے لیے خوشی اور چستی کے ساتھ جانا چاہیے کیونکہ یہ وہ عمل ہے جو ہمارے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔
​شیخ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث بیان کرتے ہیں جس میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "تحترقون تحترقون" (تم جلتے ہو، تم جلتے ہو) یعنی گناہوں کی وجہ سے۔ پھر فرمایا کہ جب تم فجر پڑھتے ہو تو وہ ان گناہوں کو دھو دیتی ہے۔ پھر دن بھر کے گناہوں سے تم جلتے ہو، لیکن جب ظہر پڑھتے ہو تو وہ انہیں دھو دیتی ہے۔ اسی طرح عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں درمیانی وقت کے گناہوں کو دھو کر صاف کر دیتی ہیں۔
​نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب بندہ رات کو سوتا ہے تو اس پر کوئی گناہ باقی نہیں رہتا۔ شیخ آخر میں اللہ کے فضل کا ذکر کرتے ہیں کہ نماز ہم سے زیادہ وقت نہیں لیتی لیکن اللہ تعالیٰ نماز پڑھنے والوں سے بے حد محبت کرتا ہے اور ان سے راضی ہوتا ہے۔
2🕊1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
​اس ویڈیو میں شیخ عبداللہ بن عبدالرحمن البعیجان نے بیان کیا ہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ اللہ کی نعمتیں آپ کے پاس باقی رہیں اور ان میں اضافہ ہو، تو اس کے لیے "شکر" کرنا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں ضرور زیادہ دوں گا" (سورہ ابراہیم: 7)۔
​شیخ نے وضاحت کی کہ شکر صرف "الحمدللہ" کہنے کا نام نہیں ہے، بلکہ شکر کی تین بنیادی اقسام ہیں:
​زبان کا شکر: اللہ کا ذکر کرنا اور زبان سے اس کی حمد و ثنا بیان کرنا۔
​دل کا شکر: پختہ اعتقاد رکھنا کہ جو بھی نعمت ملی ہے وہ صرف اللہ کی طرف سے ہے، یہ انسان کی اپنی ذہانت، طاقت یا کوشش کا نتیجہ نہیں ہے۔
​اعضاء (عمل) کا شکر: اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو نیکی کے کاموں میں استعمال کرنا۔
​اگر اللہ نے مال دیا ہے تو شکر یہ ہے کہ اسے خیر کے کاموں میں خرچ کیا جائے۔
​اگر اللہ نے علم دیا ہے تو شکر یہ ہے کہ لوگوں کو سکھایا جائے اور حق واضح کیا جائے۔
​خلاصہ یہ کہ حقیقی شکر یہ ہے کہ انسان کا دل نعمت دینے والے (اللہ) کا معترف ہو، زبان اس کا اقرار کرے، اور جسم کے اعضاء اس کی اطاعت میں مصروف رہیں۔
👍2🕊1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
​اس ویڈیو میں شیخ نمازِ فجر کی اہمیت اور اس میں سستی کرنے والوں کے بارے میں نصیحت فرما رہے ہیں۔ وہ ان لوگوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں جو کام (ڈیوٹی) پر جانے کے لیے تو صبح سات بجے کا الارم لگاتے ہیں اور فوراً اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، لیکن نمازِ فجر کے لیے نہیں اٹھتے۔ شیخ کہتے ہیں کہ کیا ایسے لوگوں کو اللہ کا خوف نہیں؟ جبکہ مؤذن پکارتا ہے کہ "نماز نیند سے بہتر ہے"۔
​وہ ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ منافقین پر سب سے بھاری نمازیں عشاء اور فجر کی ہیں۔ اگر لوگوں کو ان کا اجر معلوم ہو جائے تو وہ گھسٹتے ہوئے بھی مسجد آئیں۔ مزید یہ کہ نمازِ فجر کی عظمت اس بات سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ اس وقت آٹھ فرشتے (چار دن کے اور چار رات کے) جمع ہوتے ہیں۔ یہ فرشتے انسان کے دائیں بائیں اعمال لکھنے والے اور آگے پیچھے سے حفاظت کرنے والے ہوتے ہیں جو فجر کے وقت ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ آخر میں وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ فجر کے بعد غیر حاضر افراد کے بارے میں دریافت فرماتے تھے، اور جو جان بوجھ کر غائب ہوتے، ان کا شمار منافقین میں ہوتا تھا۔
2🕊1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
​ویڈیو کا خلاصہ
​اس ویڈیو میں قرآن مجید کے ساتھ تعلق جوڑنے کی اہمیت اور اس کے روزمرہ زندگی پر پڑنے والے برکات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ مقرر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگر آپ اپنی مصروف زندگی اور کاموں کے بوجھ کے باوجود قرآن کے لیے وقت نکالتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ آپ کے تمام کاموں میں آسانی پیدا فرما دیتا ہے۔
​اکثر لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ ان کے پاس وقت نہیں ہے یا ان کا شیڈول بہت زیادہ بھرا ہوا ہے، لیکن مقرر کا کہنا ہے کہ اگر آپ اپنے دن میں سے صرف آدھا صفحہ بھی قرآن کی تلاوت کے لیے وقف کر دیں، تو آپ خود اپنی زندگی اور کاموں میں غیبی مدد اور سکون محسوس کریں گے۔
​پیغام کا لبِ لباب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ سے بہت زیادہ وقت یا محنت کا تقاضا نہیں کرتا، بلکہ وہ صرف آپ کی توجہ اور رغبت چاہتا ہے۔ جتنا ہو سکے قرآن کے ساتھ اپنا رشتہ مضبوط کریں اور اللہ سے ڈرتے رہیں، کیونکہ جب آپ قرآن کو اپنی ترجیحات میں شامل کرتے ہیں، تو اللہ آپ کے دن بھر کے معاملات کو سنوار دیتا ہے۔
🕊1
​"نظریں نیچی رکھنے کے حوالے سے انتہائی حریص اور محتاط رہیں۔ یہ اہم ترین معاملات میں سے ایک ہے۔ غض البصر (نظریں نیچی رکھنا) ان عظیم ترین عبادات میں سے ہے جو دل میں ایمان کی مٹھاس پیدا کرتی ہیں۔ اور آپ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث جانتے ہیں جس میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: 'جس شخص نے قدرت رکھنے کے باوجود اللہ کی رضا کی خاطر اپنی نظریں نیچی رکھیں، اللہ تعالیٰ اس کے دل میں ایمان کی ایسی مٹھاس پیدا کر دے گا (جسے وہ محسوس کرے گا)۔'"
​غض البصر کی وضاحت
​عربی زبان میں غض کے معنی "کم کرنے" یا "جھکانے" کے ہیں، اور البصر نظر کو کہتے ہیں۔ اسلامی اصطلاح میں اس سے مراد اپنی نظروں کو ان چیزوں سے بچانا ہے جنہیں دیکھنا اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔
​اہم نکات:
​قرآنی حکم: اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور (آیت 30-31) میں مردوں اور عورتوں دونوں کو الگ الگ یہ حکم دیا ہے کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھیں۔
​دل کی حفاظت: نظر کو "شیطان کے زہریلے تیروں میں سے ایک تیر" کہا گیا ہے۔ غض البصر کا مقصد صرف آنکھوں کو جھکانا نہیں بلکہ اپنے دل کو فتنوں اور گناہوں کی طرف مائل ہونے سے بچانا ہے۔
​پہلی نظر کا حکم: اسلام میں اچانک پڑ جانے والی پہلی نظر پر گرفت نہیں، لیکن جان بوجھ کر دوبارہ دیکھنا یا نظر جمانا منع ہے۔
​روحانی فوائد: جیسا کہ ویڈیو میں ذکر کیا گیا، اس عمل کا سب سے بڑا انعام ایمان کی مٹھاس ہے، کیونکہ جب انسان اللہ کے خوف سے اپنی خواہش کو قربان کرتا ہے، تو اللہ اسے اپنے قرب کی لذت عطا فرماتا ہے۔
1🕊1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
​اس ویڈیو میں ایک عالم دین نیند سے متعلق دو اہم دعاؤں کی فضیلت بیان کر رہے ہیں۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ اپنے بستر پر تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے: "بِاسْمِكَ اللّٰهُمَّ أَحْيَا وَأَمُوْتُ" (اے اللہ! میں تیرے ہی نام کے ساتھ زندہ ہوتا ہوں اور مرتا ہوں)۔ اسی طرح جب آپ ﷺ بیدار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: "الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُوْرُ" (تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے ہمیں مارنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے)۔
​عالم دین نے وضاحت کی کہ اہل علم کے نزدیک جو مومن ذکرِ الٰہی کے ساتھ سوتا ہے اور ذکر کرتے ہوئے ہی بیدار ہوتا ہے، اس کی پوری نیند عبادت میں شمار ہوتی ہے اور اسے اس کا ثواب ملتا ہے۔ یہ عمل ایک عام انسانی ضرورت (نیند) کو ایک عظیم روحانی عبادت میں بدل دیتا ہے، کیونکہ اس کا آغاز اور اختتام اللہ کی یاد پر ہوتا ہے۔
1🕊1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
​اس ویڈیو میں شيخ قرآنِ پاک کی اہمیت اور انسانی زندگی پر اس کے گہرے اثرات پر روشنی ڈالتے ہیں۔ وہ اپنی گفتگو کا آغاز ایک اہم سوال سے کرتے ہیں کہ کیا آپ اپنی زندگی میں حقیقی سکون چاہتے ہیں؟ ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص ذہنی اور قلبی سکون کا طلبگار ہے، تو اسے قرآن سے تعلق جوڑنا چاہیے۔ وہ خاص طور پر نوجوانوں اور بچوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ قرآن کو حفظ کریں اور اسے صرف کسی مرکز کی پابندی یا والدین کے کہنے پر نہ پڑھیں، بلکہ اسے اپنے دل میں بسائیں کیونکہ یہ سینوں کی بیماریوں کے لیے شفا، ہدایت اور رحمت ہے۔
​وہ مزید وضاحت کرتے ہیں کہ قرآن زمین پر ایک "نور" کی مانند ہے۔ جو شخص اس نور کے بغیر زندگی گزارتا ہے، وہ گمراہی اور اندھیروں کی دلدل میں پھنس جاتا ہے۔ شیخ قرآن کی تعلیمات، اخلاق اور ایمان کو اس روشنی سے تشبیہ دیتے ہیں جو انسان کو معاشرے میں باوقار طریقے سے چلنے میں مدد دیتی ہے۔ وہ سورۃ الانعام کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جو لوگ اس نور (قرآن، علم اور ایمان) کو اپنا لیتے ہیں، اللہ انہیں روحانی زندگی عطا کرتا ہے، جبکہ اس کے برعکس وہ لوگ جو اسے ٹھکرا دیتے ہیں، وہ دنیا کی تاریکیوں میں بھٹکتے رہتے ہیں۔
4🕊1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اس ویڈیو میں قرآن مجید کو حفظ کرنے کے ایک نہایت موثر اور آسان طریقے پر روشنی ڈالی گئی ہے جو بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے یکساں مفید ہے۔ مقرر کے مطابق، سننا (استماع) حفظِ قرآن کے عمل میں کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔
​ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ صرف پڑھنے سے یادداشت کی شرح 10 فیصد ہوتی ہے، جبکہ دیکھنے، پڑھنے اور سننے کے مجموعی عمل سے یہ شرح بڑھ کر 50 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔ مقرر نے اپنے ذاتی تجربے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے گھر میں بچوں کے لیے 'مصحف المعلم' (جیسے منشاوی یا طنیجی) مسلسل چلا کر رکھتے تھے۔
​حتیٰ کہ جب بچے کھیل رہے ہوتے ہیں، تب بھی قرآن کی آواز ان کے کانوں میں پڑتی رہتی ہے۔ اس مسلسل سماعت کی برکت سے دو تین سال کے ننھے بچے بھی، جو ابھی صحیح طرح بولنا بھی نہیں جانتے، قرآن کی آیات اور سورتیں خود بخود حفظ کر لیتے ہیں۔ ویڈیو کے آخر میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ قرآن کو کثرت سے سننے سے قرآن کا حفظ کرنا نہ صرف آسان ہو جاتا ہے بلکہ بہت کم وقت میں بڑی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔
4🕊1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
بے شک وہ لوگ جنہوں نے کہا، "ہمارا رب اللہ ہے" اور پھر اس پر ثابت قدم رہے، ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں (یہ کہتے ہوئے) کہ "نہ تم ڈرو اور نہ غم کرو، اور اس جنت کی خوشخبری سنو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔"
🕊3
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
​اے میرے وہ بندو جو ایمان لائے ہو! یقیناً میری زمین وسیع ہے، پس تم میری ہی عبادت کرو۔ [۵۶]
​ہر جاندار موت کا ذائقہ چکھنے والا ہے، پھر تم سب ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ [۵۷]
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
​اس ویڈیو میں شیخ ایک انتہائی اہم روحانی نکتہ بیان کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب بھی انسان سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے، تو اسے چاہیے کہ فوراً اس کے بعد صدقہ کرے، چاہے وہ معمولی مقدار میں ہی کیوں نہ ہو۔
​اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے وہ فرماتے ہیں کہ جب انسان گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نشان پڑ جاتا ہے۔ اس گناہ کا ایک برا اثر (نحوست) یہ ہوتا ہے کہ یہ انسان کو نیکی اور اطاعت کے کاموں سے سست یا دور کر دیتا ہے اور انسان خیر کے راستے سے بھٹکنے لگتا ہے۔
​لیکن جب آپ گناہ کے بعد صدقہ کرتے ہیں، تو یہ صدقہ اس گناہ کی نحوست کو ختم کر دیتا ہے۔ اس کی دلیل میں وہ نبی کریم ﷺ کی حدیث پیش کرتے ہیں: "صدقہ گناہ کو ایسے بجھا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔" یعنی صدقہ گناہ کے برے اثرات کو مٹا دیتا ہے، جبکہ سچی توبہ گناہ کو سرے سے ختم کر دیتی ہے۔
🕊1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
​اس ویڈیو میں شیخ اعتدال اور میانہ روی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتاتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا طریقہ کار صحابہ کرام کی تربیت میں ہمیشہ متوازن رہا۔ جب آپ ﷺ نے دیکھا کہ لوگ دنیا کی طرف مائل ہو رہے ہیں اور آخرت کو بھول رہے ہیں، تو آپ ﷺ نے انہیں سختی سے منع فرمایا اور ڈرایا۔ اس سلسلے میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی روایت کا ذکر کیا گیا ہے کہ جب بحرین سے مالِ غنیمت آیا اور لوگ اس پر ٹوٹ پڑے، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے تمہارے بارے میں غربت کا ڈر نہیں بلکہ اس بات کا خوف ہے کہ دنیا تم پر کھول دی جائے گی اور تم ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں ہلاک ہو جاؤ گے۔

​دوسری طرف، جب لوگ دین میں غلو، سختی اور انتہا پسندی کی طرف مائل ہوئے، تب بھی آپ ﷺ نے انہیں اعتدال کی طرف واپس موڑا۔ شیخ نے اس کی مثال مشہور حدیث سے دی کہ "دین آسان ہے اور جو بھی دین میں سختی کرے گا، دین اس پر غالب آ جائے گا"۔ خلاصہ یہ کہ نبی کریم ﷺ کا مشن امت کو صراطِ مستقیم پر قائم رکھنا تھا، جو کہ افراط و تفریط کے درمیان ایک معتدل راستہ ہے۔
2🕊1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اس ویڈیو میں شیخ ابو زکریا ازدواجی حقوق اور خاص طور پر بیوی پر خرچ کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ صدقہ اور خیرات کی سب سے زیادہ مستحق آپ کی اپنی بیوی ہے۔ بہت سے شوہر اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ بیوی کے اخراجات پورے کرنا والدین پر خرچ کرنے سے بھی زیادہ مقدم اور واجب ہے۔
​شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ فقہاء کی کتب میں نفقہ (اخراجات) کے باب میں سب سے مضبوط پہلو بیوی کے حقوق کا ہے، کیونکہ شرعی نصوص میں اس پر بہت زور دیا گیا ہے۔ بیوی ایک امانت ہے اور اس کی ضروریات پوری کرنا شوہر کی اولین ذمہ داری ہے۔
​آخر میں وہ ایک معاشرتی مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کچھ لوگ "نفسیاتی مسائل" کا شکار ہوتے ہیں؛ وہ گھر سے باہر تو بہت سخی اور ہمدرد بنتے ہیں لیکن اپنے گھر والوں اور بیوی کے معاملے میں نہایت کنجوسی اور سختی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ شیخ اس رویے کی مذمت کرتے ہوئے مردوں کو اپنی ترجیحات درست کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اس ویڈیو میں نماز کے بعد کے پہلے ذکر اور اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ویڈیو کا آغاز اس بات سے ہوتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب نماز مکمل فرماتے تو سلام پھیرنے کے فوراً بعد تین مرتبہ "استغفر اللہ" کہتے اور پھر یہ دعا پڑھتے: "اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام"۔
​اس کے بعد ویڈیو میں ایک اہم سوال اٹھایا گیا ہے کہ انسان نماز تو اللہ کی عبادت کے لیے پڑھتا ہے، پھر اسے نماز کے فوراً بعد "استغفار" (توبہ) کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ انسان چاہے جتنی بھی توجہ سے نماز پڑھے، اس کے دوران اکثر لاپرواہی یا خیالات کی بھٹکن کا شکار ہو جاتا ہے، جس سے نماز میں کوئی نہ کوئی کمی رہ جاتی ہے۔ لہذا، یہ استغفار اس کمی کو پورا کرنے اور نماز میں ہونے والی کوتاہیوں کی معافی کے لیے ہے۔ مزید برآں، یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ ہم اللہ کی چاہے جتنی بھی عبادت کر لیں، اس کا شکر اور حق مکمل طور پر ادا کرنا ہمارے بس میں نہیں۔
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
جس نے اپنی نماز کو بہتر بنایا، اللہ اس کی زندگی کو بہتر بنا دے گا۔ جس نے اللہ کے حضور اپنے قیام (کھڑے ہونے) کو بہتر بنایا، اللہ دنیا اور آخرت میں اس کے مقام کو بلند کر دے گا۔ جس نے اللہ کے حقوق ادا کیے، اللہ اس کی طرف سے (لوگوں کے) حقوق ادا فرما دے گا۔
​آپ جب بھی نماز کو ترجیح دیں گے، اللہ آپ کی تمناؤں کو ترجیح دے گا۔ اللہ آپ کی کامیابیوں، آپ کی شادی، گھر اور گاڑی کی خریداری اور آپ کے دنیا و آخرت کے تمام معاملات میں آسانی اور بہتری پیدا فرما دے گا۔
۔ جیسا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی صحیح حدیث میں ہے: جب بھی کوئی بندہ نماز کے لیے مسجد جاتا یا وہاں سے واپس آتا ہے، اور یہاں تک کہ عورت بھی جب اپنے گھر میں نماز کے لیے تیار ہوتی ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں "نزل" (مہمان نوازی) تیار فرماتا ہے۔
​"نزل" وہ ضیافت اور مہمانی ہے جو اللہ تعالیٰ اس نمازی کے لیے تیار کرتا ہے۔ یہ ایسی مہمانی ہے جس کی تفصیل آپ نہیں جانتے، لیکن ذرا سوچیں کہ اس کا انتظام کون کر رہا ہے؟ خود اللہ سبحانہ و تعالیٰ آپ کی مہمانی کی نگرانی فرما رہا ہے کیونکہ آپ نماز ادا کرنے گئے تھے۔
1🕊1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
​اس ویڈیو میں والدین کے ساتھ "خاموش نافرمانی" (Silent Disobedience) کے تصور پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اکثر لوگ نافرمانی کو صرف بدتمیزی یا تلخ کلامی تک محدود سمجھتے ہیں، لیکن یہاں ایک گہری اور خاموش قسم کی نافرمانی کا ذکر کیا گیا ہے جسے شیخ نے "عقوق مخملی" (Velvet Disobedience) کا نام دیا ہے۔
​اس کا مطلب یہ ہے کہ اولاد ظاہری طور پر تو کوئی بڑا جھگڑا نہیں کرتی، لیکن ان کا رویہ والدین کے لیے دکھ کا باعث بنتا ہے۔ اس کی اہم مثالیں درج ذیل ہیں:
​والدین کی موجودگی میں موبائل اور دیگر برقی آلات میں مگن رہنا۔
​ان کے پاس بیٹھنے اور بات چیت کرنے سے گریز کرنا یا انہیں نظر انداز کرنا۔
​ضد اور لاپرواہی کا مظاہرہ کرنا جس سے والدین کے دل میں اداسی پیدا ہو۔
​ویڈیو میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگرچہ والدین ایسی صورتحال میں خاموش رہتے ہیں، لیکن اولاد کا یہ رویہ بھی نافرمانی کے زمرے میں آتا ہے۔ والدین کے دل کو دکھ پہنچانا، چاہے وہ خاموشی سے ہی کیوں نہ ہو، ایک سنگین معاملہ ہے۔ آخر میں دعا کی گئی ہے کہ اللہ ہمیں اس طرح کی نافرمانی سے بچائے اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی توفیق عطا فرمائے۔
👍32🕊1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
​اس ویڈیو میں ایک خوبصورت واقعے کا ذکر کیا گیا ہے جو صحابیِ رسول حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیش آیا۔ وہ ایک مرتبہ نفل نماز ادا کر رہے تھے کہ انہوں نے اپنے پیچھے سے کسی کو یہ کلمات کہتے ہوئے سنا:
​"اے اللہ! تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں، تمام بادشاہی تیری ہی ہے، تمام خیر تیرے ہی ہاتھ میں ہے اور تمام معاملات تیری ہی طرف لوٹتے ہیں۔ تو ہی تعریف کے لائق ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! میرے تمام پچھلے گناہ معاف فرما دے، میری باقی ماندہ زندگی میں میری حفاظت فرما اور مجھے ایسے نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرما جن سے تو مجھ سے راضی ہو جائے۔"
​جب حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے نماز مکمل کی تو پیچھے مڑ کر دیکھا، لیکن وہاں کوئی موجود نہ تھا۔ انہوں نے جب نبی کریم ﷺ کو یہ واقعہ سنایا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ ایک فرشتہ تھا جسے اللہ تعالیٰ نے انہیں اللہ کی حمد و ثناء سکھانے کے لیے بھیجا تھا۔
​ویڈیو کے اختتام پر اس دعا کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے کہ ہر مسلمان کو یہ جامع دعا یاد کرنی چاہیے اور اسے صبح و شام، سوتے وقت اور جاگتے ہوئے کثرت سے پڑھنا چاہیے۔
1🕊1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
​اس ویڈیو میں ایک بہت ہی خوبصورت اور گہری بات سمجھائی گئی ہے کہ جو شخص حقیقی خوشی کی تلاش میں ہے، اسے اپنی زندگی اللہ کی خاطر گزارنی چاہیے۔ مقرر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اللہ کے ساتھ گزاری گئی زندگی سے بڑھ کر کوئی چیز خوبصورت اور پرسکون نہیں ہو سکتی۔ وہ اپنے ذاتی تجربے اور پختہ یقین کی بنیاد پر کہتے ہیں کہ اگرچہ ظاہری طور پر ایسی زندگی میں کچھ مشکلات یا آزمائشیں نظر آ سکتی ہیں، لیکن حقیقت میں یہ مشکلات ہی انسان کو سچی خوشی فراہم کرتی ہیں۔
​یہ چیلنجز انسان کو اندرونی طور پر مضبوط بناتے ہیں اور اسے دنیا کی ہر مشکل اور آزمائش کا مقابلہ کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ مزید یہ کہ، یہ تمام سختیاں دراصل آخرت میں دائمی جنت کی تعمیر کا ذریعہ بنتی ہیں۔ ویڈیو کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ دنیاوی تکالیف کو بوجھ سمجھنے کے بجائے انہیں اللہ کی رضا اور اپنی روحانی ترقی کا ذریعہ سمجھنا چاہیے۔ جب انسان اپنی زندگی اللہ کے سپرد کر دیتا ہے، تو اسے وہ سکون اور خوشی ملتی ہے جو کسی اور طریقے سے حاصل نہیں کی جا سکتی۔ سبحان اللہ، یہ ایک ایسی زندگی ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کی ضمانت دیتی ہے۔
🕊1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
اس ویڈیو میں شیخ نماز کی اہمیت اور اس کی روحانی برکات پر روشنی ڈالتے ہیں۔ وہ اس بات پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ ایک انسان کائنات کے مالک اور منتظم، اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے لیکن پھر بھی وہ جلد از جلد وہاں سے جانے کی کوشش کرتا ہے تاکہ دنیا کے کسی ایسے کام کو حاصل کر سکے جو خود اللہ ہی کے قبضے میں ہے۔ یہ ایک تضاد ہے کہ انسان اللہ سے دور بھاگ کر کامیابی کی امید رکھتا ہے۔
​شیخ فرماتے ہیں کہ:
​کامیابی کا راز: وہ شخص سب سے زیادہ خوش نصیب ہے جو اپنی زندگی میں نماز کی حفاظت کرتا ہے، اور وہ سب سے زیادہ بدبخت ہے جس کی زندگی سے نماز نکل جائے۔
​نماز کی حقیقت: نماز محض ایک فرض نہیں بلکہ یہ دل کا سکون اور اطمینان ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔
​نماز کے فوائد: نماز غموں کو دور کرتی ہے، پریشانیوں سے نجات دلاتی ہے، رزق میں وسعت پیدا کرتی ہے اور مشکل وقت میں انسان کے قدم جمائے رکھتی ہے۔
​آخر میں وہ قرآن مجید کی آیت کا حوالہ دیتے ہیں کہ اللہ سے صبر اور نماز کے ذریعے مدد مانگو۔ بے شک نماز ہی وہ ذریعہ ہے جو انسان کو اللہ کے قریب اور دنیاوی و اخروی کامیابیوں سے ہمکنار کرتی ہے۔
🕊1